Home :: About Us
Follow Us:
  ’شروعات پاکستان کو کرنی ہوگی‘

’شروعات پاکستان کو کرنی ہوگی‘

وقت ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرے: ایس ایم کرشنا

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان سے جامع مذاکرات تبھی ممکن ہیں جب پاکستان ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرے۔

بنگلور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ ممبئی حملوں سے پہلے ہندوستان پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کی کوشش کر رہا تھا لیکن اب اگر پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ’کمپوژٹ‘ ڈائیلاگ ایک بار پھر سے شروع ہوں تو شروعات پاکستان کو کرنی ہوگی۔

ایس ایم کرشنا نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے ممبئی حملوں سے متعلق جو چھ ڈوزیئر پاکستان کے حوالے کیے ہیں ان میں ممبئی حملوں سے متعلق تمام معلومات موجود ہیں اور اب وقت ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرے۔

ایس ایم کرشنا کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان عالمی برادری کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ شدت پسندی کے خلاف جنگ پر آمادہ ہے تو اسے اپنے ایکشن سے یہ ثابت کرنا ہوگا۔

شرم الشیخ میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے یہ طے کیا تھا کہ بات چیت ہی ایک واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں اور دوسرا راستہ تو خود کشی کا راستہ ہے

شاہ محمود قریشی

اس حوالے سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے مسائل سلجھتے نہیں اور بات چیت صرف پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’شرم الشیخ میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے یہ طے کیا تھا کہ بات چیت ہی ایک واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں اور دوسرا راستہ تو خود کشی کا راستہ ہے۔‘

’ اگر انڈیا سمجھتا ہے کہ بات چیت ان کے لیے سود مند نہیں ہے تو پاکستان اس پر بضد نہیں ہے بلکہ پاکستان کہتا ہے کہ یہ دونوں ممالک اور خطے کے مفاد میں ہے کہ ہم اپنے حل طلب مسائل کے حل کے لیے پرامن طریقے سے آگے بڑھیں۔‘

ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’جن لوگوں کو ہم نے گرفتار کیا ہے ان کے خلاف عدالت میں سماعت جاری ہے اور ہم عدالتی کارروائی کے ضابطوں کو پورا کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس افسوسناک واقع کے جو بھی ذمہ دار تھے ان کو کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے۔‘

ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو شدت پسند حملے ہوئے تھے جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملوں میں بعض پاکستانی شدت پسندوں کو ملزم پایا گیا ہے۔ حملہ کرنے والوں میں ایک مبینہ شدت پسند اجمل امیر قصاب ممبئی کی ایک جیل میں بند ہے جس پر ممبئی حملوں سے متعلق کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ہندوستان ان حملوں سے متعلق ثبوت پاکستان کو دے چکا ہے۔ ہندوستان کا مطالبہ ہے کہ پاکستان جلد از جلد ملزمان کے خلاف کارروائی کرے۔

 

Home :: About Us :: Feedback :: Contact Us
Follow Us: