Home :: About Us
Follow Us:
  افغان ہلاکتوں پر وائٹ ہاؤس کو تشویش

افغان ہلاکتوں پر وائٹ ہاؤس کو تشویش

 

طالبان نے مقامی افراد کو کہا کہ وہ آ کر تیل نکال لیں: عینی شاہد

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اسے چوری شدہ ٹینکر پر نیٹو حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت کی خبروں پر گہری تشویش ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں ایک چوری ہونے والے تیل کے ٹینکر پر نیٹو طیاروں کی بمباری کے بعد ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں کم از کم نوے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کلِک نیٹو بمباری کے بعد تباہی: تصاویر

نیٹو حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ صوبہ کندوز میں بغلان کی مرکزی شاہراہ پر کیا گیا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں ہے۔ کندوز کے گورنر کا کہنا ہے کہ نیٹو حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر مزاحمت کار تھے۔ تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تیس عام شہری بھی شامل تھے۔

نیٹو کی سربراہی میں ایساف نے حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے خیال میں علاقے میں صرف جنگجو ہی موجود تھے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔

اس سے پہلے ڈسٹرکٹ پولیس کے سربراہ بشریار پروانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان باغی ہائی وے پر سے ایک تیل کا ٹینکر ہائی جیک کرنے کے بعد اسے کہیں لے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’ٹینکر ایک دریا میں عبور کرتے ہوئے پھنس گیا۔ جس وقت طالبان پر بمباری کی گئی اس وقت مقامی لوگ بھی ان کے ہمراہ تھے۔‘

شدید زخمی افراد کو کندوز کے ایک ہسپتال میں لایا گیا ہے۔

بین الاقوامی افواج ایساف کے کابل میں ترجمان نے بتایا کہ ایساف نے تیل کے ٹینکرز کو دریا کندوز کے کنارے دیکھا اور ایساف کے مقامی کمانّر نے ان کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں دونوں ٹینکر تباہ ہو گئے۔

کندوز کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ تیل کے ٹینکرز کی تباہی کے نتیجے میں سینیئر طالبان کمانڈرز ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ نیٹو کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس حملے میں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیق کر رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے نیٹو کے دو تیل کے ٹینکرز کو جمعرات کی رات اغوا کیا تھا لیکن وہ ٹینکر بعد میں مٹی میں دھنس گئے۔ طالبان ترجمان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ٹینکرز کیسے دھنس گئے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان نے فیصلہ کیا کہ ان ٹینکرز میں سے تیل نکال لیا جائے اور اس کے ساتھ ہی عام شہری بھی تیل لینے پہنچ گئے۔ اور اس موقعے پر نیٹو نے فضائی حملہ کیا۔

بین الاقوامی افواج ایساف کے کابل میں ترجمان نے بتایا کہ ایساف نے تیل کے ٹینکرز کو دریا کندوز کے کنارے دیکھا اور ایساف کے مقامی کمانڈر نے ان کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں دونوں ٹینکر تباہ ہو گئے۔

ایک عینی شاہد بتیس سالہ محمد داؤد نے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طالبان ان ٹینکروں کو دریا کے دوسرے کنارے لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ ایک ٹینکر دریا کے دوسرے کنارے لے جانے میں کامیاب ہو گئے لیکن دوسرا زمین میں دھنس گیا۔ ’چنانچہ طالبان نے مقامی افراد کو کہا کہ وہ آ کر تیل نکال لیں۔‘

محمد داؤد کے مطابق مقامی افراد ٹینکر کے گرد جمع ہو گئے اور تیل نکال رہے تھے کہ حملہ ہو گیا۔ حملے کے وقت ٹینکر کے اوپر دس سے پندرہ طالبان تھے۔ حملے کے نتیجے میں تیل کے ٹینکر کے آس پاس جتنے افراد موجود تھے وہ سب ہلاک ہو گئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس نے بتایا کہ اس حملے میں زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

چھینے گئے ایک ٹینکر کے ڈرائیور نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے ٹینکر اپنے قبضے میں لینے سے قبل ان کے دو ساتھیوں کو ہلاک کیا

 

Home :: About Us :: Feedback :: Contact Us
Follow Us: