Home :: About Us
Follow Us:
  News in Urdu; Hamid Karzai is leading in Afghanistan Presidential Election

افغانستان میں صدارتی انتخابات

اب تک گنے جانے والے تین چوتھائی ووٹوں میں سے حامد کرزئی کو اڑتالیس اعشاریہ چھ فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے عبوری نتائج کے مطابق صدر حامد کرزئی کی برتری میں اور اضافہ ہوا ہے۔

اب تک گنے جانے والے تین چوتھائی ووٹوں میں سے حامد کرزئی کو اڑتالیس اعشاریہ چھ فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جب کہ ان کے قریب ترین حریف عبداللہ عبداللہ کو اکتیس اعشاریہ سات فیصد ووٹ ملے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی فراڈ کی تحقیقات کے بعد اٹھائیس ہزار پولنگ سٹیشنوں میں سے چار سو سینتالیس پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ کو بوگس قرار دے دیا گیا ہے۔

صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے جیتنے والے امیدوار کے لیے دوبارہ انتخاب سے بچنے کے لیے کم از کم پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو دو سرِ فہرست امیدواروں کے درمیان مقابلہ دوبارہ ہو گا۔ بیس اگست کو ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی کے الزامات لگائے گئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر حامد کرزئی کی کامیابی کے آثار واضح دکھائی دیتے ہیں کیونکہ جن حلقوں سے گنتی کا اعلان ہونا ہے ان میں سے اکثر جنوبی علاقوں کے ہیں اور انہیں صدر کرزئی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

تینتالیس لاکھ درست ووٹوں میں سے حامد کرزئی کو اب تک دو لاکاسی ہزار اور عبداللہ عبداللہ کو تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

 

الیکشن کمیشن کے اہلکار داؤد علی نجفی نے اتوار کو کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تینتالیس لاکھ درست ووٹوں میں سے حامد کرزئی کو اب تک دو لاکھ اسی ہزار ووٹ حاصل ہو چکے ہیں۔ جب کہ عبداللہ عبداللہ کو تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

صدارتی امیدواروں میں تیسرے نمبر پر رمضان بشر دوست ہیں جنہیں اب تک ملنے والے ووٹوں کی تعداد پانچ لاکھ سے بھی کم ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بعض پولنگ سٹیشنوں پر حامد کرزئی کو سو فیصد ووٹ ملے ہیں اور جب تک بد عنوانی کے الزامات ثابت نہیں ہوتے ان ووٹوں کو درست ہی مانا جائے گا۔

بد عنوانی کے الزامات کے بعد بعض حلقوں میں ووٹوں کی گنتی روکی جا چکی ہے۔ تاہم سترہ ستمبر تک حتمی کا اعلان کیا جانا ہے۔

 

 

Home :: About Us :: Feedback :: Contact Us
Follow Us: